ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان تونسہ شریف کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں طبی غفلت کے نتیجے میں معصوم بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) کے وائرس کی منتقلی کے ہولناک انکشاف پر شدید تشویش اور گہرے غم و غصے کا اظہار کرتی ہے۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق سرکاری ہسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور جراثیم سے آلودہ طبی آلات کا برتاؤ درجنوں معصوم جانوں کو عمر بھر کی معذوری اور جان لیوا مرض کی جانب دھکیل چکا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالی اور ریاستی تحفظ کے تصور پر ایک کاری ضرب ہے۔
کونسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ رتوڈیرو (2019) اور جلالپور جٹاں (2009) جیسے بڑے سانحات کے باوجود تونسہ میں اس نوعیت کا واقعہ دہرایا جانا صحت کے نظام کی مجرمانہ لاپروائی اور حکومتی مانیٹرنگ کے ڈھانچے کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ پاکستان اس وقت ایشیا میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک خطرناک زون میں داخل ہو چکا ہے، جہاں غیر محفوظ انجکشنز اور اسکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی جیسے بنیادی طبی اصولوں کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ دنیا میں سب سے زیادہ ہے، وہاں سرکاری شفا خانوں کا بیماری بانٹنے کے مراکز میں تبدیل ہو جانا 'حقِ زندگی' کے بنیادی آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور صرف نچلے عملے کو نشانہ بنانے کے بجائے ان تمام افسران اور فیصلہ سازوں کا احتساب کیا جائے جن کی غفلت سے آٹو ڈس ایبل (AD) سرنجوں کی فراہمی اور انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ بچوں کے لیے فوری طور پر مفت تاحیات علاج اور ان کے خاندانوں کے لیے معقول مالی ہرجانے کا اعلان کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے شعبے میں جاری اس خاموش قتلِ عام کو روکنے کے لیے 'ہیلتھ ایمرجنسی' نافذ کی جائے اور طبی اخلاقیات کو پامال کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
#StopHIVinPakistan
#TaunsaMedicalNegligence
#JusticeForTaunsaChildren
#HealthCrisisPakistan
#SafeInjectionPractices
#HumanRightsCouncilPakistan