فراز نے شاید یہی کہنا چاہا تھا کہ شاعری حدوں کے اُس پار جھانکنے کا نام ہے، جہاں معاشرہ سوال اٹھانے سے بھی ہچکچاتا ہے۔
شراب کو منفی کردیا جائے تو ہمارا شعری سرمایہ بے شک وہ فارسی کا ہو یا اردو کا
روکھا ، بے رنگ اور بے جان سا ہوجاتا ہے
میں نے اک بار فراز سے یہی سوال کیا
اس نے اپنے خضاب زدہ گھنگھریالے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگا
تارڑ جو کچھ ممنوع ہے وہی شاعری ہے !!
اردو کلاسیک
رات گئے