اب چونکہ اس کیس کے مرکزی مجرم سید عون علی نقوی کا تعلق ماڈل ٹاون لاہور کی تگڑی سید فیملی سے ہے
اس لئے اشرافیہ کے اس بگڑے رئیس زادے کی دفعہ CCD اس کے نیفے میں پستول نہیں چلائے گی ۔
بلکہ واقعے کو کوئی اور رنگ دے کر فائل ٹھپ کردی جائے گی۔
لاہور ماڈل ٹاؤن میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کو بارہا زیادتی کا نشانہ بنانے ، تشدد کرنے، اور حاملہ کر کے موت کے منہ میں دھکیلنے والے سید عون علی نقوی ، اس کا ڈرائیور حسن اور دیگر شریک جرم گرفتار کیوں نہیں ہوئے ابھی تک ؟؟
ریاست کہاں ہے ؟؟
کہاں ہے سب دی ماں ؟؟