کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح اپنے ہی موسموں سے اُکتا گئ ہو۔
دل چاہتا ہے کہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر کہیں بہت دُور چلا جاؤں
ایسی جگہ، جہاں نہ کسی کی آواز تعاقب کرے نہ کوئی یاد دامن پکڑے
نہیں معلوم وہ مقام کہاں ہے، نہ یہ خبر کہ وہاں پہنچا کیسے جاتا ہے
مگر اندر ہی اندر کہیں ایک مسلسل ہجرت جاری رہتی ہے
ہر شے سے، ہر تعلق سے، حتیٰ کہ خود اپنی ذات سے بھی۔