حبیب ابن مظاہر.ٔ....
حبیبِ حسینٔ
یہ خط میں شاہ نے لکھا حبیب آجاؤ
تمہارا دوست ہے تنہا حبیب آجاؤ
شہید کیسے ہوا وہ بتاؤ گے آ کر
تم حالِ مسلم بےکس سناؤ گے آ کر
رقیہ تکتی ہے رستہ
حبیب آجاؤ
لگاؤ اس سے بھی اندازے میری غربت کے
جہاں پر ابن علی لکھنا تھا وہاں میں نے
دیا ہے ماں کا حوالہ
حبیب آجاؤ
بتا رہا تھا میں اس کو کوئی نہیں ہے میرا
تو بولی ثانی زہرۂ حبیب آئے گا
اسے ہے تم پہ بھروسہ
حبیب آجاؤ
گوارا کر نہیں سکتی حسینٔ کی غیرت
تمہاری زوجہ کی چادر کو لوٹ لے امت
تم اس کو چھوڑ کے کوفہ
حبیب آجاؤ
وہ جب یہ سنتی ہے کوفے سے آرہے ہیں شقی
تو پوچھتی ہیں ہمارا بھی آئے گا کوئی
دعائیں دے گی سکینۂ
حبیب آجاؤ
تم اس کو خط نہیں بہنوں کی آرزو سمجھو
ہمارے لفظوں کو زینبٔ کی گفتگو سمجھو
بہن یہ کہتی ہے بھیا
حبیبٔ آجاؤ