کچھ عیب گر نہ ہوتے، شاہکار بن کر جیتے۔۔۔۔۔۔۔۔

Joined February 2020
3,449 Photos and videos
Pinned Tweet
میرےپاس کبھی کوئی اتنی قیمتی نایاب اوراتنی خاص چیزتھی ہی نہیں جس سےتمہیں تشبیح دیتی تم تینوں خود میں اکلوتےہوبہت قیمتی بہت نایاب بہت خاص میری ترجیحات میں اول💙 #ماشااللہ سمجھےنہ کوئی سرسری ساتذکرہ تمہیں بھرپور ماجرا ہوتم حوالہ نہیں ہو #AbbasKhan251_birthday @AbbasKhan251
22
185
111
21,666
حمزہ تراب ☕ retweeted
حبیب ابن مظاہر.ٔ.... حبیبِ حسینٔ یہ خط میں شاہ نے لکھا حبیب آجاؤ تمہارا دوست ہے تنہا حبیب آجاؤ شہید کیسے ہوا وہ بتاؤ گے آ کر تم حالِ مسلم بےکس سناؤ گے آ کر رقیہ تکتی ہے رستہ حبیب آجاؤ لگاؤ اس سے بھی اندازے میری غربت کے جہاں پر ابن علی لکھنا تھا وہاں میں نے دیا ہے ماں کا حوالہ حبیب آجاؤ بتا رہا تھا میں اس کو کوئی نہیں ہے میرا تو بولی ثانی زہرۂ حبیب آئے گا اسے ہے تم پہ بھروسہ حبیب آجاؤ گوارا کر نہیں سکتی حسینٔ کی غیرت تمہاری زوجہ کی چادر کو لوٹ لے امت تم اس کو چھوڑ کے کوفہ حبیب آجاؤ وہ جب یہ سنتی ہے کوفے سے آرہے ہیں شقی تو پوچھتی ہیں ہمارا بھی آئے گا کوئی دعائیں دے گی سکینۂ حبیب آجاؤ تم اس کو خط نہیں بہنوں کی آرزو سمجھو ہمارے لفظوں کو زینبٔ کی گفتگو سمجھو بہن یہ کہتی ہے بھیا حبیبٔ آجاؤ
4
7
9
101
ہر سال کی طرح اس سال بھی سرخ آسمان پے چاند کی آمد محرم کے آغاز کی نوید دے رہا ہے دعا ہے یہ نیا سال ہم سبکے لیے باعث راحت سکون اور آسانیوں والا ثابت ہو سبکی مشکلات حل ہوں اور سکون قلب مقدر بنے آمین ثم آمین نیا اسلامی سال مبارک ہو
پچھلے چار سالوں سے یہ ایکٹیویٹی ہے میری یکم محرم الحرام کو چھت پے جا کے آسمان کی جانب دیکھتی ہوں آسمان پے سرخ بادل خود محرم الحرام کی آمد کا پتہ دیتے ہیں #myclick دعا ہے یہ نیا سال سبکے لیے آسانیاں اور خوشیاں لے کر آئے آمین ثم آمین
1
5
61
حمزہ تراب ☕ retweeted
اور پھر ہم چلتے رہے ٹیڑھے میڑھے مگر ہموار ٹریک پر ہاتھوں میں موبائل پکڑے ہیڈ فون کانوں پہ چڑھائے باتیں کیے بغیر ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے آرائشی پودوں کو دیکھتے فائبر کے جانوروں کو چھیڑتے پرانے دنوں کو یاد کرتے آنے والے زمانوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے کبھی کنکریٹ کے بینچوں پر بیٹھتے کبھی بادلوں پر پاؤں رکھتے اور سمندروں کے اوپر سے گزرتے ہوئے سیلفیاں بناتے کبھی پانیوں پر چلتے دریاؤں کے پار اترتے ہوئے مصنوعی قوس قزح کے پُل پر کچھ دیر تک رکتے بچوں کی طرح رک رک کر ہم چلتے رہے چلتے رہے ابدیت کے پارک میں ۔۔۔۔
1
2
8
100
حمزہ تراب ☕ retweeted
محبتیں اور فلسفے کبھی قدیم یا جدید نہیں ہوتے ہم بدل جاتے ہیں محبتیں فلموں کی طرح کامیاب یا فلاپ ہوتی ہیں اور فلسفے ہمارے ساتھ ہی سرما خوابی میں چلے جاتے ہیں ہم جو خود فریبی کا شاہکار ہیں سمجھتے ہیں کہ امر ہو گئے ہیں حالانکہ ہماری موت کا انتظار کیے بغیر دوسرے ہماری جگہ لے لیتے ہیں!
1
2
6
148
حمزہ تراب ☕ retweeted
ہم بارانی لوگ ہیں وہ نہیں جانتے ہم اپنے اونچے نیچے کھیتوں، ڈِھلمِل موسموں اور جھاڑیوں بھرے قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے اور جڑی بوٹیوں کی طرح فصل در فصل اگتے رہتے ہیں وہ ہمیں تلف کرنے کے لیے نت نئے اسپرے چھڑکتے ہیں ہم پھر اگ آتے ہیں ہم پر خس و خاشاک مارنے والے کیمیاوی زہر اثر نہیں کرتے ہم جہاں جاتے ہیں اپنی مٹی، اپنی ہریالی ساتھ رکھتے ہیں ہم بارانی لوگ ہیں وہ نہیں جانتے شہروں میں رہتے ہوئے بھی ہماری آب و ہوا میں کیکر کے پھولوں کی خوشبو بسی ہوتی ہے اور ہمارے سروں پر سدا شیشم کی چھاؤں رہتی ہے ہم دھوپ اور تیز بارش سے نہیں ڈرتے ہم ایک نہیں دو نہیں ہماری پشت پر پورا دِہ ہوتا ہے وہ کبھی نہیں جان پائیں گے ہمارے دروازے اونچے، صحن کھلے، برآمدے لمبے، دل بڑے اور جسم کھردرے کیوں ہوتے ہیں ہم آبادیوں میں گم ہوتے ہوئے راستے ہیں اور شاملات کے رقبے ہیں ان کے کمپیوٹر ہماری شناخت نہیں کر پائیں گے ہم درختوں، چرا گاہوں اور جولائی کے بادلوں جیسے ہیں ہمارا کُھرا پانے کے لیے انہیں زمین و آسمان کی خانہ شماری کرنی پڑے گی ہم بارانی لوگ ہیں ہم جانتے ہیں وہ ہمیں کاغذوں کی مار ماریں گے رپٹوں اور مِسلوں میں گھسیٹیں گے اور ہماری بے ضرر حرکات و سکنات پر ٹیکس لگا دیں گے ہمیں دفتروں، تھانوں، کچہریوں کے پھیرے لگوا لگوا کر ایک دن داخل دفتر کر دیں گے لیکن وہ نہیں جانتے ہم بارانی لوگ ہیں اُگنا اور پھیلنا ہماری مجبوری ہے ہم اُن کے روزنامچوں سے نکل کر گھر گھر، گلی گلی، شہر شہر پھیل جائیں گے فلک بوس عمارتوں کے لیے ہموار کی گئی زمینوں پر قبروں کی طرح اُگ آئیں گے!
1
3
8
141
حمزہ تراب ☕ retweeted
بس کچھ چیزیں تھی بے جان سی چیزیں جن میں میری جان بستی تھی آج وہ سب بھی کھو دیا ہے ! اب تو کچھ بھی باقی نہیں رہا ! ختم شد
3
6
97
حمزہ تراب ☕ retweeted
مِلنے میں دیر لگا دیتے ہو یہاں تک کہ بارشیں پرانی اور ہوائیں بوڑھی ہو جاتی ہیں اور چھت پر پڑی ہوئی آہنی کرسیوں کا پینٹ اترنے لگتا ہے اور دروازے کی گھنٹی خاموش رہ رہ کر بجنا بھول جاتی ہے اور مین گیٹ ذرا سی آہٹ پر خوامخواہ راہ گیروں سے اور گھر کے سامنے سڑک پر کام کرتے مزدوروں سے الجھتا رہتا ہے لمحے وہ سکے ہیں جو پڑے پڑے متروک ہو جاتے ہیں اور قدرِ زر کھو دیتے ہیں نئے نوٹوں کی گڈیاں زمانوں کی فاختائیں ہیں اُڑ کر جانے کہاں چلی جائیں، کس شاخ پر جا بیٹھیں خواہشیں بینکوں کی برانچوں کی طرح ہیں ایک سے دوسری، دوسری سے تیسری تیسری سے چوتھی آگے اور آگے شہر در شہر پھیلتی چلی جاتی ہیں کبھی پوری نہیں ہوتیں پتے تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن مٹی اپنی جگہ نہیں بدلتی جہاں کی ہو وہیں نمو خیز رہتی ہے زندگی اگرچہ دریا کے پانی کی طرح بہتی ہے لیکن ہم کنارے نہیں کہ اسے دیکھتے رہیں ہم انسان ہیں ہمیں کسی نہ کسی منزل کی جانب تو چلنا ہے اور کہیں نہ کہیں تو رکنا ہے جہاں ہم سکون سے اپنی اپنی قبروں میں اتر سکیں موت سے فلرٹ کرنا بظاہر اچھا لگتا ہے اور اکثر شاعر کرتے ہیں لیکن جب وہ آتی ہے تو ہر لفظ کے معانی بھلا دیتی ہے اور ہر چیز کے نقش مٹا دیتی ہے یہاں تک کہ پاس بیٹھے ہوؤں کے چہرے بھی دھندلا جاتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے دنیا کومے میں چلی جاتی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی دن تم آؤ اور گھنٹی بجاؤ اور دروازہ کھلے اور پورچ میں کھڑی دم بخود ہوا منہ کھولے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش میں سرسراتی رہ جائے میں تو وہاں نہ ہوتے ہوئے بھی تمہیں دیکھ لوں گا پہچان بھی لوں گا اور گلے بھی لگا لوں گا لیکن تم ۔۔۔۔۔۔ تم مجھے دیکھ نہیں پاؤ گے رو بھی نہ سکو گے اور ساکت و ششدر میری لاوجود موجودگی کو گھورتے رہ جاؤ گے مِلنے میں دیر نہ لگایا کرو!
3
2
7
185
حمزہ تراب ☕ retweeted
اڑتے بادل سے پوچھو ان ہواؤں سے پوچھو ان بہاروں سے پوچھو ان کو پتہ ہے اس کا نام وہ ساتھ میرے صبح شام #جان_بہاراں
5
1
10
166
حمزہ تراب ☕ retweeted
میں چاہتا تھا کہ کاش تم جانتیں کہ پسلیوں کے درمیان رہنے والا یہ دل دھڑکنا صرف تب ہی سیکھتا ہے جب تمہارا نام اس کے خیال سے گزرتا ہے کیونکہ تمہاری موجودگی نہ تو کوئی آواز ہے اور نہ ہی کوئی جسم، بلکہ ایک روشنی ہے جو خون میں دوڑتی ہے، تو ہر خلیے کو اپنے اندر تمہارے لیے دعاگو کر دیتی ہے۔ اور میں لوگوں کے درمیان اکیلا چلتا ہوں لیکن تم میرے ساتھ ہوتی ہو، جیسے وہ سایہ جو کبھی جدا نہیں ہوتا یا وہ دھڑکن جو کبھی مرتی نہیں تاکہ تم جان لو کہ جو کچھ میرے اندر چل رہا ہے، اس میں تم صرف دل میں نہیں ہو بلکہ تم پورا دل ہو اور میں چاہتا تھا کہ کاش تم جانتیں کہ یہ دل پوری رات سوتا نہیں، تمہارے دور دراز کے سانسوں کو گنتا ہے اور تمہاری یادوں کو ایک ایسے محل میں قیمتی پتھروں کی طرح سجاتا ہے جہاں تمہارے سوا کوئی داخل نہیں ہو سکتا، کاش تم جانتیں کہ میں جب اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں تو تمہیں سمندر کی لہروں پر چلتے ہوئے دیکھتا ہوں، اور جب انہیں کھولتا ہوں تو تمہیں اپنی دائیں ہتھلی پر بیٹھے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے تم کوئی ایسی تقدیر ہو جو کبھی چوکتی نہیں، کاش تم جانتیں کہ میں نے ہر چیز کا نام تمہارے نام پر رکھنا شروع کر دیا ہے، صبح کی کافی تمہارا نام ہے، وہ کھڑکی جہاں سے میں جھانکتا ہوں تمہارا نام ہے، اور جو بادل گزرتا ہے وہ تمہارا نام ہے، یہاں تک کہ وہ حرف جو میں اس وقت لکھ رہا ہوں وہ تمہاری سانسیں ہیں، میرے حروف نہیں، تو پھر دل کیسے نہ دھڑکے جب کہ تم ہی اس کی پوری دھڑکن ہو۔ مجذوبؔ
3
6
166
حمزہ تراب ☕ retweeted
کیا عروج کے قصے ، ذکر کیا زوالوں کا پھر حساب کیا رکھتے بخت تیری چالوں کا ہنس رہے ہیں ہم لیکن یہ نہیں کہ خوش بھی ہیں دل تو رکھنا پڑتا ہے ارد گرد والوں کا
8
2
33
419
حمزہ تراب ☕ retweeted
"نہ وَعدہ ھے کوئی تُم سے رِشتہ نِبھانے کا نہ کوئی اور ھی دِل میں تہیہ یا اِرادہ ھے کئی دِن سے مگر دِل میں عَجیب اُلجھن سی رَھتی ھے نہ تُم اُس داستان کے سَرسَری کِردار ھو نہ قِصہ اِتنا سادہ ھے۔ تَعلق جو میں سَمجھا تھا کہیں اُس سے زیادہ ھے" #HellWarrior
2
18
47
367
حمزہ تراب ☕ retweeted
"اور آپ اُسی سے مایوس ہو کر واپس آتے ہیں جسے آپ نے اپنے اوپر ترجیح دی تھی." #اردو_زبان
2
6
12
143
حمزہ تراب ☕ retweeted
لوگ دیوانے ہیں بناوٹ کے ہم کہاں جائیں اپنی سادگی لے کر !!
12
1
29
354
حمزہ تراب ☕ retweeted
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں عجب طرح کی گھٹن ہے ہواکے لہجے میں افتخار عارف
14
7
35
228
حمزہ تراب ☕ retweeted
"-وہ بیٹھتی تھی تو زمانہ بھی رک سا جاتا تھا ۔۔۔ ❤️ "-سفید جوڑے میں جیسے کوئی غزل اتری ہو ۔۔۔ ❤️ #قومی_زبان
28
21
60
579
حمزہ تراب ☕ retweeted
ایک ہی درخت دو مختلف موسم یاد رکھیے ہر چیز وقتی ہوتی ہے !☄️
13
6
20
205
حمزہ تراب ☕ retweeted
اپنے کمرے میں، خیالوں سے شکستہ ھو کر لگ کـر دیوار سے، دیوار کـو دیکھا ہـے کبھی____ 🫰🏻🥀 GooD NooN 🌸
44
9
72
621
حمزہ تراب ☕ retweeted
اب جدھر دیکھیے لگتا ہے کہ اس دنیا میں کہیں کچھ چیز زیادہ ہے کہیں کچھ کم ھے
7
5
42
690
حمزہ تراب ☕ retweeted
ہر اذیت برے لوگوں سے نی ملتی ، بسا اوقات ہم اپنے خیر کے مستحق لوگوں سے بھی زخمی ہو جاتے ہیں Good afternoon X family
20
19
44
367
حمزہ تراب ☕ retweeted
When the right person holds your heart, everything feels lighter. 🤍
3
18
34
450