سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹ جس میں جھوٹ اور من گھڑت دعوی کیا گیا کہ ایک سٹوڈنٹ کو پولیس کی گاڑی نے ہٹ کیا تھا کی CCTV فوٹیج سامنے آ گئی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سٹوڈنٹ موٹر سائیکلز پر سوار ہو کر گروپ کی شکل میں ریس لگا رہے تھے کہ خود ہی آپس میں ٹکرانے سے اسد اللہ نامی سٹوڈنٹ گر کر زخمی ہو گیا جسے ہمراہی چھوڑ کر وہاں سے فرار ہوگئے۔ اور ایک راہ گیر نے زخمی کو اٹھا کر اپنی کار میں ہسپتال شفٹ کیا۔ ویڈیو میں نہ تو کوئی پولیس اہلکار اور نہ ہی پولیس کی گاڑی نظر آ رہی ہے۔
شہریوں سے گزارش ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی پروپیگنڈا کا حصہ نہ بنیں ۔ بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
طالب علم اسداللہ جسے گجرات پولیس نے طلباء احتجاج کے دوران اپنی گاڑی کے نیچے روند دیا تھا اس وقت عزیز بھٹی شہید ہسپتال گجرات میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ بی بی ثمیرا الہی نے آج اسداللہ کی ہسپتال میں عیادت کی اور اس کی جلد از جلد صحت یابی کیلئے دعا مانگی۔