احتجاج اور سیاسی مفادات پر مبنی پاسون خیبر پختونخوا کے پیچیدہ مسائل کا حل نہیں ہیں۔ یہ دیرپا نتائج فراہم نہیں کرتے اور نہ ہی مسائل کو جڑ سے حل کرتے ہیں۔ مسائل کا مستقل حل باہمی بات چیت، مذاکرات اور طویل المدتی فیصلوں پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہے۔
پاکستان میں مالاکنڈ امن معاہدہ، کوکی خیل قبائل کی واپسی، شمالی وزیرستان ترقیاتی منصوبہ اور باجوڑ میں بارڈر کراسنگز کے مذاکراتی حل اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ تعاون، مکالمہ اور مشترکہ کوششوں سے ترقی، امن اور استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس لیے ہمیں تصادم کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو چاہیے کہ علاقے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداورں کا ساتھ دیں۔
#PeaceInUnity