آزاد کشمیر کی پہلی کابینہ 1947 میں چھ وزراء پر مشتمل تھی، جن میں دو مہاجر کشمیری وزیر بھی شامل تھے - غلام دین وانی اور ثناءاللہ شامیم، دونوں کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ شہید مقبول بٹ نے بھی مہاجر نشست پر الیکشن لڑا۔ مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان کے کشمیری ایک ہیں۔ کوئی تفریق نہیں۔
مہاجر کا مطلب مقبوضہ کشمیر سے آ کر پاکستان میں بسنے والا کشمیری۔
27جولائ کو آزاد کشمیر کے الیکشن ھیں ۔ ایکشن کمیٹی ککا مطالبہ ھے کشمیر اسمبلی کی پاکستان سے منتخب ھونے والی 12 نشستیں ختم کی جائیں۔ الیکشن سے پہلے یہ مطالبہ انتخابی عمل کو سبو تاژ کرنے کے مترادف ھے۔ جمہوری سوچ کا تقاضا ھے کہ جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ھیں وہ اسکو 27جولائ کو عوام کے سامنے رکھیں اور خلق خدا کو یہ فیصلہ کرنے دیں اور نمائندگی کی شکل تشکیل کرنے دیں ۔ یہ جمہوری سوچ ھو گی ورنہ یہ بلیک میلنگ تصور ھو گی۔
سیالکوٹ شہر وتحصیل سے کشمیر اسمبلی کی ایک سالم سیٹ ھے ۔ اور پاکستان قومی اسمبلی کی دو نشستیں ھیں ۔ باقی پاکستان میں کشمیر اسمبلی کے حلقے پھیلے ھوۓ ھیں۔ یہاں کشمیری مہاجروں کی زیادہ تعداد جموں سے ھے۔ اکتوبر 1947 میں مہاجر دو لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دیکر سیالکوٹ شہر اور تحصیل میں آکر بسے ۔ لاکھوں عصمتیں لٹیں ھزاروں بیٹیاں اغوا ھوئیں ۔ آپ کسطرح ان مہاجروں انکے حق سے محروم کر سکتے ھیں ۔
کئی دہائیاں ان مہاجروں نےنہایت کسمپرسی کی حالت میں گزاری ۔ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رہے۔ ان لوگوں نے آزادی کی بہت مہنگی قیمت ادا کی ھوئی ھے۔
اپنی راۓ کو تسلیم کرانے کے لئے جمہوری رستہ اپنائیں ۔