کچھ سچ
پاک بھارت جنگ میں بھی پاک فوج نے بھرپور جوانمردی کا سامنا کیا۔ اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس جنگ کو طویل المدتی جنگ میں بدلنے سے روکا۔ اب جبکہ مشرق وسطی سے لیکر پاکستان تک سارا خطہ جنگ کے الاؤ میں جل رہا ہے اس صورتحال میں پاکستان نے بھلے وہ شہباز شریف ہے یا عاصم منیر نے بہت تدبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان نے اپنی سالمیت اور مفادات کو مقدم رکھا اور کانٹوں سے دامن بچا کر چلا۔ اگرچہ تحفظات ہیں، اگرچہ مسائل ہیں، لیکن ملک کے لیے ، پاکستان کے لیے ، ریاست کے مفادات کے لیے کچھ چیزوں کو تسلیم کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر تسلیم کرنا مشکل ہے تو خاموش رہنا بہتر ہے۔ ہر گزرتے دن کیساتھ امید کی نوید ہے۔
سات لاکھ کی فوج کے ملک میں پی ایس ایل بغیر تماشائیوں کے ہوگا۔ وہی فوج جو دو سو ارب ڈالرز کی بزنس ایمپائر بنا چکی۔ عاصم منیر کے آرمی چیف بننے سے لیکر اب تک تین ہزار سیکیورٹئ فورسز کے اہلکار مارے جاچکے۔ پاکستان اس وقت دہشتگردی کا شکار دنیا کا بدترین ملک ہے باوجود اسکے کہ تعلیم اور صحت سے زیادہ پیسہ دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ عاصم منیر نے اہنے عہدے کے لیے مینڈیٹ چھین رکھا ہے۔ کٹھ پتلی حکومتیں بٹھا رکھی ہیں اور کسی بھی قسم کی فیصلہ سازی میں عوام کا کوئی دخل نہیں۔ معیشت کا گروتھ ریٹ نصف رہ چکا ، سرمایہ کاری گر رہی ہے ، ایکسپورٹس گررہی ہیں ، بیروزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔ گندم کے کسان کو سرکار ریٹ نہیں دے سکتی اور حالت یہ ہوچکی ہے کہ تیل مہنگا ہونے پر سکول بند کردیے گئے۔ دنیا کے کسی ملک میں یہ نہیں ہوا۔ سندھ طاس معاہدہ معطل ہے اور پاکستان جن ممالک کیساتھ غزہ پیس بورڈ کا حصہ بنا وہ دیکھ کر ہی آپ اس کی حقیقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہرگزرتے دن کیساتھ بربادی مزید بدتر ہوتی جارہی ہے۔
اوپر دو پیراگراف ہیں۔ ایک میں خداداد، تدبر ، کانٹوں ، نوید ، مقدم، سالمیت مفادات اور ریاست جیسے الفاظ کی ترتیب ہے۔ نا سر ہے نا پیر ہے۔ جیسے لوریاں ہیں۔ اگرچہ ، چونکہ ، چنانچہ اور وغیرہ وغیرہ ۔ دیکھنے میں یہ الفاظ اتنے ہی خوبصورت ہیں جیسے کوئی آپ کو کہے جا بیٹا ہزار سال جیو۔ ہزار سال آپ کی تیس نسلیں نہیں زندہ رہنے والیں۔ اگلے پیراگراف میں اعداد وشمار ہیں۔ حقیقت ہے۔ جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ کوئی اسکی تردید نہیں کرسکتا۔ اگرچہ ، چونکہ ، چنانچہ یہاں بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن جو کچھ لکھا ہے اس سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔ یہ کڑوا ہے۔ لیکن سچ ہے اور سود مند بھی ہے۔ جیسے کوئی کہے بیٹا اپنی خوراک کا اپنی صحت کا فٹنس کا خیال رکھو گے ورنہ تیس چالیس سال کی زندگی بھی عذاب بنا لو گے یا ختم کر بیٹھو گے۔
اب ہے آخری پیراگراف۔ ملکوں کی عظمت کی کہانیاں بچوں کو پڑھائے جانے والی کتابوں میں اچھی لگتی ہیں۔ ملک کے شہریوں کے لیے بھرے ہوئے پیٹ اہم ہیں ، روزگار ، تعلیم اور صحت کی سہولیات اہم ہیں۔ برابری اور انصاف اہم ہے۔ اسکی راہ میں عاصم منیر رکاوٹ ہے۔ اسکی راہ میں پاک فوج رکاوٹ ہے۔ جھوٹی عظمتوں ، بکواس کامیابیوں اور مضحکہ خیز دعوے چھوڑ دیجیے یہ نا اس سے پہلے کچھ فائدہ دے پائے اور ناہی آئندہ کچھ فائدہ دے پائیں گے۔ شکریہ۔