“1947سے 1974 تک یعنی 27 سال تک مہاجرین کی 12 نشستیں موجود نہیں تھیں“
یہ دعویٰ تاریخی حقائق کے برعکس ہے مگر افسوس تاریخ سے نابلد کئی دانشوروں نے اسے ری ٹویٹ کیاجن میں مشاہد حسین سید اور حامد میر بھی شامل ہیں۔آزاد کشمیر میں پہلی بار الیکشن ایوب خان کے دور میں ہوا جب بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کروایا گیا۔بی ڈی سسٹم کے تحت “آزاد جموں کشمیر اسٹیٹ کونسل“تشکیل دی گئی جو 24 ارکان پر مشتمل تھی،12 نشستیں آزادکشمیر کے مکینوں کی اور اتنی ہی مہاجرین کی یعنی یکساں نمائندگی تھی۔ اس نظام کے تحت اکتوبر 1962میں پہلا صدارتی الیکشن ہوا جو خورشید حسن خورشید نے جیتا،اس وقت 6 صدارتی امیدواروں میں سے 4 مہاجر تھے۔بعد ازاں 1974 میں صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام میں تبدیل کیا گیا تو مہاجرین کے لئے نشستوں کا تناسب کم ہوا مگر جو کابینہ تشکیل پائی اس میں دو مہاجر وزرا شامل تھے۔جن کشمیری مہاجرین نے ہجرت کی ،اگر آپ ان کا حق تسلیم نہیں کرتے تو یہ مسئلہ کشمیر کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہوگا۔ اگر راولپنڈی ،سیالکوٹ یا لاہور میں قیام پذیر مہاجرین کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں تو برطانیہ میں میرپور (آزاد کشمیر) سے تعلق رکھنے والے تقریباً دس لاکھ کشمیریوں سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرنا ہوگا۔
1947سے 1974 تک یعنی 27 سال تک مہاجرین کی 12 نشستیں موجود نہیں تھیں پھر بھی مسئلہ کشمیر زندہ تھا۔
1974 سے 2026 تک یہ نشستیں موجود ہیں تو کیا اس دوران مسئلہ کشمیر حل ہو گیا؟
حقیقت یہ ہے کہ ان نشستوں کے ہونے یا نہ ہونے سے مسئلہ کشمیر کی حیثیت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ البتہ ان نشستوں نے سیاسی انجینئرنگ اقتدار کے توازن پر اثراندازی اور مخصوص طبقات کو نوازنے کا ذریعہ ضرور فراہم کیا۔
اگر ان نشستوں کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا تو نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس کا کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کو ختم کیا جائے ۔
یہ بارہ نشستیں صرف سیاسی جوڑ توڑ کے لیے رکھی گئی ہیں۔ مسلہ کشمیر سے انکا کوئی تعلق نہیں ۔