ہر چیز کی قیمت یوں ہی بڑھتی۔ ہر دوکاندار تاجر قیمت ایسے بڑھاتا ۔ وہاں وہ شخص جو تنخواہ دار اس نے حکومت کی طرف دیکھنا ہوتا وہ کیسے خود اپنی تنخواہ میں اس رفتار سے اضافہ کرے نتیجتا تنخواہ دار طبقہ بری طرح پس رہا
وہ لمحہ جب رپورٹر خود رو پڑا
وزیر خزانہ کے سامنے آکر رپورٹر نے بتایا کہ میں باقی کچھ نہیں کہتا خود پر گزرا سچ بتانا چاہتا ہوں، سب نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ شاید کسی جرنیل کیخلاف کوئی بات کرنے لگا ہے اس نے کہا الله کا واسطہ کچھ بتا لینے دیں ذرا سی خاموشی ہوئی تو اس نے کہا حضور صرف 2 ماہ پہلے میری آنکھوں میں موتیا ہوا ڈاکٹر نے ایک ڈراپس لکھ دیا جس کی قیمت 300 سے کچھ روپے تھی میں نے خریدا تو دوکاندار نے کہا اب یہ 700 کا ہے میں نے لے لیا اسکے بعد 20 دن بعد جب ختم ہوا دوبارہ سٹور پر گیا تو انہوں نے کہا آب یہ 1500 روپے کا ہے، وه رو پڑا اور کہا جو مرضی کریں مگر غریب اگر دوائی نہ خریدنے کی وجہ سے مر گئے تو ذمہ دار کون یہ کہہ کر مائک واپس کیا اور چلا گیا...
یہ عسکری وزیر خزانہ وه ہے جس نے سیاستدانوں کی تنخواہیں 1 لاکھ سے 9 لاکھ کر دی ہیں اور قوم سے کہتے ہیں میں تنخواہ نہیں لیتا مریم کہتی ہے میں تنخواہ نہیں لیتی شہباز شریف کہتا ہے میں تنخواہ نہیں لیتا جبکہ غریب سے آج کہا گیا اگر 4 بھائی ہیں 1 روٹی ہے تو بانٹ کر کھا لیں، یوں لگ رہا ہے ہمیں من حیث القوم اللہ سے سزا ملی ہے اور بڑی سخت سزا ملی ہے
جہانزیب پاکستانی