Writer, Columnist, Blogger @tkwmag @expressNewsPk & @mukaalma9, Social and Political Activist

Joined July 2011
462 Photos and videos
Azhar Mushtaq retweeted
آزاد کشمیر کے نمائندے کتنے با اختیار ہیں۔ صحافی کے سوال پر وزیر مال چوہدری اخلاق کے جواب سنیے #RightsMovementAJK
2
28
71
1,695
Account @Catmind_K has been hacked, please ignore if any post from the account pops up. It would not be from the original user.
28
This is violation of 4th Geneva convention 1949 and Hague Regulations 1907. #RightsMovementAJK
انتظامیہ خوراک کے ٹرکوں کو جانے نہیں دیتی ، ڈرائیورز کو ہراساں کر رہی جبکہ سرکاری میڈیا اور کالے چینل پر پروپیگنڈا کیا جاتا کہ ایکشن کمیٹی کے لوگ مال بردار گاڑیاں نہیں جانے دیتے نوجوان کی گفتگو
5
3
123
In the era of fake propaganda and when you can’t win war of narrative building from state sponsored media, @dawn_com and @Dawn_News is a ray of hope. @gabolizm #RightsMovementAJK
3
7
202
Azhar Mushtaq retweeted
🚨🚨 Two people were killed and eight others injured in a clash between protesters and law enforcement personnel near Eidgah Ground in Rawalakot during the early hours of Sunday, according to Poonch Divisional Commissioner Sardar Waheed Khan. dawn.com/news/2007938
5
9
39
1,327
Thank you @ThePakistanExp1 and Shahzad Sb #RightsMovementAJK

6
15
290
Azhar Mushtaq retweeted
I had never imagined that the women of my village were so strong, brave, and confident that they would come out to fight for their rights, and that I would see them like this on social media.💕🥹
سرساوہ چوک کشمیر
4
38
103
2,108
Azhar Mushtaq retweeted
The Joint Action Committee represents the collective voice of ordinary Kashmiris who seek justice, dignity, and relief from the challenges they face every day. Peaceful protest and public participation are fundamental democratic rights, and the concerns raised by the people deserve to be heard with seriousness and respect. Instead of confrontation, there should be meaningful dialogue. Lasting solutions can only emerge when the voices of the people are acknowledged and their legitimate demands are addressed. The strength of any society lies in listening to its citizens, not silencing them. #Kashmir #JointActionCommittee
1
6
14
266
Azhar Mushtaq retweeted
آطلاع ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کے بعد شاہ غلام قادر کو تھپڑ پڑے اور پھر بیان واپس لیا کہ سیاق و سباق سے ہٹا کر بیان چلایا گیا۔
1
1
61
Azhar Mushtaq retweeted
پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر مظفرآباد: امن جرگہ میں کیا ہوا امن جرگہ میں موجود ایڈوکیٹ ہارون نے حقائق بتا دیے. #RightsMovementAJK @HamidMirPAK @AzazSyed
6
63
131
2,706
Azhar Mushtaq retweeted
چند تعصب اور بغض کے مارے جاہلوں کو چھوڑ ان تمام پاکستانی بہنوں اور بھائیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ، جو ان مشکل حالات میں کشمیری عوام کی آواز بنے، ہمارے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھا اور حق و انصاف کی جدوجہد میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوۓ اور وہ جو بھی ھیں ان کے چہرے ھمارے دلوں پر نقش ھو گۓ ھیں چاہے وہ صحافی ھوں ، سیاستدان ھوں ، دانشور ھوں یا پاکستان کی اس وقت حقیقت میں نمائندہ سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ھمارے بہن بھائی ۔ ۔ اب سب کے لیۓ میرا یہ پیغام ھے کہ جہاں ان چند غلیظ چہروں کے دیے زخم اب ساری عمر مندمل نہیں ھونگے وہاں ھماری یہ یکجہتی اور محبت ہمیشہ بھی یاد رکھی جائے گی اور نہ صرف یاد رکھی جاۓ گی بلکہ اپنی نسلوں کو بھی آپ کی اس لازوال محبت اور یکجہتی کی داستانیں سنانا ھمارے اوپر قرض ٹھہرا ۔ آپ یہ مت سوچیں کہ ھمارے ساتھ یکجہتی کرتے ھوۓ آپ کا لکھا اور کہا گیا ایک ایک لفظ ھمارے دلوں میں محفوظ نہیں ھو رہا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے ۔ آمین ❤️ #کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو #RightsMovementAJK
11
32
299
Azhar Mushtaq retweeted
Replying to @FiazGhershin
میں اپنی رائے یہاں پر پہلے دے چکا ہوں۔ میرے خیال میں آزاد کشمیر سے باہر بسنے والے کشمیریوں کی اسمبلی میں نشستیں نہیں ہونی چاہیئے۔ انہیں اپنے ڈومیسائل والے علاقوں میں ووٹ ڈالنے اور الیکشن لڑنے کا حق حاصل ہے۔ جوکشمیری آزاد کشمیر سے باہر بستے ہیں ان کی اسمبلی میں شمولیت صرف علامتی ہونی چاہیئے۔ تاہم میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے طریقے سے اتفاق نہیں کرتا۔
2
5
24
752
Azhar Mushtaq retweeted
🚨 Urgent Humanitarian Concern Multiple local reports allege that Pakistani police are stopping vehicles carrying vegetables, fruit, meat, and other essential supplies destined for Pakistan-administered Kashmir. We call upon the Government of Pakistan, the Government of Azad Jammu & Kashmir, humanitarian organizations, and human rights bodies to urgently investigate these allegations, establish the facts, and ensure the uninterrupted movement of essential supplies. @ICRC @UNHumanRights #AJK #HumanRights #Kashmir #RightsMovementAJK @ifrc @FilippoGrandi @jagan_chapagain @MamadouSowICRC @IFRCAsiaPacific @swiss_un @FranceskAlbs @Francescorocca @UNReliefChief @hrw @OHCHRAsia @HRCP87 @CommissionerHR @volker_turk @UNinPak @jayshreebajoria @MaryLawlorhrds @HamidMirPAK @AJEnglish @caroline_gm_d @amnesty @amnestysasia @FCDOGovUK @JaneMarriottUK @ukinpakistan @HFalconerMP @Irenekhan @HelleLyngSvends @UNPeacekeeping @BattsetsegBatm2 @USAmbUN @VietNam_UN @Imran_HussainMP @Lacroix_UN @omctorg @natalieben @kajakalla
23
31
535
سب یاد رکھا جائے گا ڈاکٹر جاوید حیات راولاکوٹ، آزاد کشمیر / کینیڈا 14 جون 2026 آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کی موجودہ تحریک کسی ایک دن، ایک واقعے یا کسی سیاسی جماعت کی مہم کا نتیجہ نہیں۔ یہ برسوں کی معاشی مشکلات، بڑھتی ہوئی مہنگائی، انتظامی کمزوریوں، سیاسی بے حسی اور عوامی مسائل سے مسلسل چشم پوشی کا فطری ردِعمل ہے۔ جب لوگوں کے مسائل حل نہ ہوں، جب فریاد سننے والے کان بند ہو جائیں اور جب مکالمے کے دروازے مسلسل بند رکھے جائیں، تو احتجاج عوام کا آخری سہارا بن جاتا ہے۔ سڑکوں پر نکلنے والے لوگ کسی سازش کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ ایک ایسے معاشرے کی آواز ہوتے ہیں جو خود کو نظرانداز اور بے بس محسوس کر رہا ہو۔ اسی لیے موجودہ صورتحال کی ذمہ داری صرف کسی ایک حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اس کی ذمہ داری اس پورے سیاسی نظام پر عائد ہوتی ہے جس نے برسوں تک عوامی مسائل کو پس منظر میں رکھا اور اقتدار کی سیاست کو ترجیح دی۔ آج اگر عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں تو اس کے اسباب کو محض حالیہ واقعات میں تلاش کرنا حقیقت سے فرار کے مترادف ہوگا۔ گزشتہ دنوں سردار عتیق احمد خان، شاہ غلام قادر اور ماجد خان کے بیانات سننے کا موقع ملا۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ تینوں کی زبان ایک تھی، بیانیہ ایک تھا اور ہدف بھی ایک۔ ان کے نزدیک ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ لاکھوں عوام ریاست مخالف ہیں، پاکستان مخالف ہیں، اور ان کے ساتھ مکالمے کے بجائے طاقت کے ذریعے نمٹا جانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عوامی تحریکیں طاقتور اور موروثی سیاسی ڈھانچوں کے لیے خطرہ بننے لگتی ہیں تو سب سے پہلے ان کی ساکھ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں غدار، ایجنٹ یا ریاست مخالف قرار دے کر اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جاتی ہے۔ ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے جس میں عوام کٹہرے میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور اقتدار کے ایوان خود کو منصف کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے بعض "باریک وارداتیے" مسلسل اس کوشش میں مصروف رہے کہ عوامی حقوق کی اس تحریک کو ریاستِ پاکستان کے مقابل لا کھڑا کیا جائے۔ کوشش یہ رہی کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان اعتماد، محبت اور تاریخی وابستگی کے رشتوں میں دراڑیں ڈالی جائیں۔ بدقسمتی سے بعض اقدامات اور بعض بیانیے اس مقصد کو تقویت دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاریخ کا سبق مگر بڑا واضح ہے اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو یہ حقیقت بروقت سمجھ لینی چاہیے کہ: نفرتوں کا بوجھ ریاستیں اٹھاتی ہیں، لاشیں عوام کے گھروں سے اٹھتی ہیں، جبکہ سیاسی فائدے چند چالاک کردار اور ان کے خاندان سمیٹ لیتے ہیں۔ تصادم کے نتائج کبھی محدود نہیں رہتے؛ ان کی قیمت نسلیں ادا کرتی ہیں۔ آج کئی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ گھروں میں کہرام برپا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کی سلامتی کے لیے پریشان ہیں، بہنیں اور بیٹیاں اضطراب کا شکار ہیں، اور خاندان اپنے پیاروں کی خیریت کے منتظر ہیں۔ ایسے میں بعض سیاسی چہروں کی خاموشی مزید تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ خاموشی محض خاموشی نہیں بلکہ ایک سیاسی رویہ، ایک اخلاقی ناکامی اور عوامی دکھ درد سے لاتعلقی کا اظہار ہے۔ بعض اوقات خاموشی الفاظ سے زیادہ بلند آواز ہوتی ہے۔ تاریخ صرف یہ نہیں دیکھتی کہ کس نے کیا کہا، بلکہ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ کون بول سکتا تھا مگر بولا نہیں، کون آگ بجھا سکتا تھا مگر خاموش تماشائی بنا رہا، اور کون اپنے لوگوں کے دکھ میں شریک ہونے کے بجائے سیاسی مصلحتوں کے حصار میں قید رہا۔ عوام آج تمام فریقین سے جواب طلب کر رہے ہیں۔ کون تھا جس نے مکالمے کے بجائے تصادم کی راہ اختیار کی؟ کون تھا جس نے آگ بجھانے کے بجائے اس پر تیل ڈالا؟ کون تھا جس نے اشتعال انگیز بیانات اور نفرت آمیز تقریروں کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھایا؟ کون تھا جس نے عوامی مطالبات کو سننے کے بجائے انہیں غداری اور بغاوت کا نام دیا؟ کون اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہا اور کون اقتدار کے ایوانوں میں خاموش بیٹھا رہا؟ کون دوہرا کھیل کھیلتا رہا؟ اور وہ کون عناصر اور قوتیں تھیں جو معاہدۂ مظفرآباد پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ بنتی رہیں اور جنہوں نے مسائل کے حل کے بجائے بحران کو طول دینے میں کردار ادا کیا؟ وقت سب سے بڑا منصف ہوتا ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، عہدے ختم ہو جاتے ہیں اور طاقت کے مراکز تبدیل ہو جاتے ہیں، مگر کردار محفوظ رہتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات پر صرف فیصلے نہیں بلکہ نیتیں، رویے اور کردار بھی درج ہوتے ہیں۔ 1/2
1
4
6
358
آج شاید کچھ لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ الزامات، پروپیگنڈے اور نفرت کے بیانیوں کے ذریعے وہ اپنی سیاست کو محفوظ بنا لیں گے، مگر انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کی اجتماعی یادداشت اتنی کمزور نہیں جتنی وہ سمجھتے ہیں۔ کس نے زخم دیے اور کس نے مرہم رکھا؛ کس نے نفرت بوئی اور کس نے مفاہمت کی بات کی؛ کس نے فاصلے بڑھائے اور کس نے پل تعمیر کرنے کی کوشش کی — سب یاد رکھا جائے گا۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ حالات بھی بدل جائیں گے۔ اقتدار بھی تبدیل ہو جائیں گے۔ مگر جو کچھ آج ہو رہا ہے، وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ رہے گا۔ آج ھماری روح بی گھائیل ھے مگر نہ ہم بھولیں گے، نہ بھولنے دیں گے۔ سب یاد رکھا جائے گا۔ @JavaidSardar #RightsMovementAJK 2/2
1
45
آزادکشمیر کے سیاستدان حالیہ سالوں میں لوگوں کو اپنے حقوق کی جدوجہد سے باز رکھنے کیلئے ایسی باتیں کرتے رہے کہ اگر پاکستان نے خوراک کی رسد بند کر دی تو آزادکشمیر میں لوگ فاقوں مریں گے وغیرہ وغیرہ، بین الاقوامی قانون اس بارے میں بالکل واضح ہے، 1949 میں ہونے والا چوتھا جنیوا کنونشن اور اس کے تحت وضع اصول یہ قرار دیتے ہینکہ کسی بھی علاقے میں مؤثر کنٹرول رکھنے والے فریق کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہری آبادی کو بنیادی سہولیات سے محروم نہ کرے، خاص طور پر آرٹیکل 55 اور 59 اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کو نہ روکا جائے، اور اگر مقامی نظام ناکام ہو تو امدادی اداروں کو علاقے تک رسائی دی جائے۔ مزید یہ کہ بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ شہری آبادی کو دباؤ، پابندیوں یا رسد کی رکاوٹوں کے ذریعے اجتماعی سزا (collective punishment) نہیں دی جا سکتی، یہ اصول کسی بھی سیاسی یا سیکیورٹی جواز سے بالاتر ہے یعنی حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں نہ صرف یہ کہ اشیاء ضروریہ کی رسد نہیں روکی جا سکتی بلکہ علاقے پر موثر کنٹرول رکھنے والی طاقت پر بین الاقوامی قانون کی تحت یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیکہ وہ لوگوں تک خوراک، ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی رسد کو یقینی بنائے، بصورت دیگر یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور انسانیت کیخلاف جرائم میں شمار ہوتا ہے۔ بشکریہ: مدثر شاہ صاحب @IHHen @HamidMirPAK @Advjalila
7
9
33
1,606